ما بین الحرمین میں جناب رقیہ(ع) کے مصائب اور شہادت کی یاد میں منفرد دستر خوان بچھایا گیا کہ جو جناب رقیہ(ع) کی یاد میں لگایا جانے والا طویل ترین دسترخوان ہے لیکن یہ دسترخوان کھانے پینے کی اشیاء پر مشتمل نہیں بلکہ اس کی ہر چيز جناب رقیہ(ع) کے مصائب کی یاد دلاتی اور آنکھ سے آنسو بہاتی.....
اس عزائی دسترخوان کا اہتمام وانتظام مُنتدى العالميّ لخَدَمَة السيّدة رقيّة(ع) نامی تنظیم نے شعبہ ما بین الحرمین کے ساتھ مل کر کیا۔
اس موکبِ عزاء میں خدمات سرانجام دینے والے مومن سید علی محمد عبداللہ نے کہا ہے کہ اس ماہ صفر کی پانچ تاریخ کو ما بین الحرمین کے ایریا میں جناب رقیہ(ع) کا عزائی دسترخوان بچھایا گیا کہ جو اپنی نوعیت کا سب سے بڑا دستر خوان ہے اور اس کا آغاز 2010ء میں کیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ اس موقع پر منعقدہ عزائی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا، جس کے بعد جناب رقیہ(ع) کی زیارت پڑھی گئی اور مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی کی گئی، اور جناب رقیہ(ع) کے مصائب بیان کیے گئے۔
انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کربلا دنیا کے 700 شہروں میں سے ایک ہے کہ جہاں جناب رقیہ(ع) کے یوم شہادت کے احیاء اور ان کے مصائب کو دنیا تک پہنچانے کے لیے اس تنظیم کی طرف سے اس نوعیت کا دسترخوان بچھایا گیا۔