روضۂ مبارک حضرت عباس(ع) نے پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے انچولی میں حضرت فاطمہ زہراء(ع) کی سیرتِ طیبہ کے بارے میں خواتین کے لیے ایک فکری و مکالماتی نشست کا انعقاد کیا۔
یہ نشست "تیسری سالانہ فاطمہؑ سبیلِ نجات کانفرنس" کی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جس کا انعقاد سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہراء(ع) کے جشن میلاد کی مناسبت سے کیا گیا ہے۔
نشست کے دوران روضۂ مبارک حضرت عباس(ع) کی جانب سے شعبۂ دینی امور کے سربراہ شیخ صلاح کربلائی نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ روضۂ مبارک مسلسل تیسرے سال اس بابرکت موقع پر فعال شرکت کے ذریعے پاکستان میں مومنین کے ساتھ دینی و ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے کا عزم رکھتا ہے۔
شیخ صلاح کربلائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نماز، ایمان کے بعد سب سے اہم ستون ہے، جو انسان کی تربیت، خاندان کی تشکیل اور معاشرتی اقدار کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے سیدۂ نساءِ عالم حضرت فاطمہ زہراء() اور ان کی پاکیزہ ذریت سے تعلق رکھنے والے معصوم آئمہ(ع) کی سیرت کو مثال قرار دیا، کہ جنہوں نے نماز کے قیام اور اس کی تبلیغ پر خصوصی تاکید فرمائی اور اسے روزمرہ زندگی کا مستقل لائحۂ عمل بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ نماز کے تصور کو راسخ کرنا اور اسے عملی شعار کے طور پر اپنانا اس کانفرنس کے نمایاں ترین ثمرات میں سے ایک ہے، جو معاشرے میں ایمانی اور سماجی اقدار کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔
حضرت فاطمہ زہراء(ع) کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل چار تحقیقی مقالات بھی اس فکری و علمی نشست کا حصہ تھے، روضۂ مبارک حضرت عباس(ع) کے وفد کی جانب سے ان مقالات کو لکھاری خواتین کو اعزازی شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔
واضح رہے کہ روضۂ مبارک حضرت عباس(ع) اس کانفرنس کے انعقاد کے ذریعے سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہراء(ع) کی یاد کو زندہ رکھنے اور ان کے اخلاقی و فکری اصولوں کو اسلامی معاشرے کے مختلف طبقات میں فروغ دینے کے لیے کوشاں ہے۔






