سید المجاہد کے خانوادے کے فکری ورثے پر خصوصی تحقیقی مطالعہ

جامعہ امام کاظم(ع) سے وابستہ محقق حیدر عبدالباری حداد نے ایک اہم علمی مقالہ پیش کیا ہے جس کا عنوان تھا: "نجف اشرف کے کتب خانوں میں سید المجاہد کے والد، سید علی الطباطبائی کے قلمی نسخوں کی فہرست"۔

یہ مقالہ سید المجاہد (قدس سرہ) اور ان کے علمی ورثے کے حوالے سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کی دوسری نشست کے دوران پیش کیا گیا۔ یہ علمی نشست روضہ مبارک حضرت عباس(ع) کے قاسم (ع) ہال میں منعقد ہوئی۔

محقق نے اپنے مقالے کے خلاصے میں بتایا کہ: یہ فہرست سید علی بن محمد علی حسنی طباطبائی حائری (متوفی 1231ھ) کے فکری ورثے کے باقاعدہ علمی بیان پر مشتمل ہے۔ سید علی وہ عظیم شخصیت ہیں جن کی آغوش میں سید المجاہد نے پرورش پائی اور ان سے آداب و معارف حاصل کیے۔

اس فہرست میں دو سو سے زائد قلمی نسخے شامل ہیں، جن میں عربی اور فارسی زبانوں میں لکھی گئی کتب اور رسائل شامل ہیں۔

ان تمام نسخوں کو حروفِ تہجی کے اعتبار سے ترتیب دیا گیا ہے، اور ان کے موجودہ مقامات (کتب خانوں)، ان کی تعداد اور ہر نسخے کی انفرادی خصوصیات کی مکمل تفصیل درج کی گئی ہے، جبکہ آخر میں ان نسخوں کے تصویری عکس بھی شامل کیے گئے ہیں۔

محقق حداد نے کہا کہ یہ فہرست اس عظیم علمی ذخیرے کو اجاگر کرتی ہے جو اس مقدس شہر (نجف اشرف) کے عوامی اور نجی کتب خانوں میں موجود ہے۔ اس فہرست کی بدولت محققین اور ماہرینِ تحقیق کے لیے ان نایاب نسخوں تک رسائی انتہائی آسان ہو جائے گی اور ان کے وقت اور محنت کی بچت ہوگی۔

واضح رہے کہ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد سید محمد بن سید علی طباطبائی (معروف بہ سید المجاہد) کی یاد کو دوام بخشنا، ان کے فکری سفر کو یادگار بنانا اور ان کے علمی و مذہبی ورثے پر نئی روشنی ڈالنا ہے۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: