روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے شعبۂ فکری و ثقافتی امور سے وابستہ "العراقی سنٹر فار ڈاکیومنٹیشن آف ایکسسٹریمیزم" (المركز العراقي لتوثيق جرائم التطرف) نے ایک جامع دستاویزی سلسلے کے تحت سات نئی کتب کی اشاعت کا اعلان کیا ہے۔ یہ کتب انتہاپسندانہ افکار کے علمی تجزیے، سابقہ بعثی حکومت کے مظالم کی آرکائیو سازی اور عراق میں دہشت گرد تنظیموں کے جرائم کی دستاویز بندی پر مبنی ایک مستند حوالہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
یہ اشاعت ایک وسیع البنیاد قومی اور انسانی منصوبے کا حصہ ہے، جو مذکورہ سنٹر کی نگرانی میں "موسسۃ الشہداء" (شہید فاؤنڈیشن) کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔
سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عباس قریشی نے اس منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: یہ منصوبہ تاریخی اور انسانی حقوق کی دستاویز بندی کے میدان میں ایک وسیع ادارہ جاتی قدم ہے۔ اس کا بنیادی مقصد سابقہ حکومت اور دہشت گردی کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کرنے والوں کی قربانیوں کو محفوظ بنانا ہے۔ ہم نے عینی شاہدین کے بیانات، دستاویزی ثبوتوں کی تصدیق اور ایک ٹھوس علمی آرکائیو کی تشکیل کے ذریعے عراق کی جدید تاریخ کے اس خونی دور کی ایک مستند تاریخ مرتب کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ آنے والی نسلیں حقائق سے آگاہ رہ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ: ان کتب میں معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص علماء کرام، منبرِ حسینی کے خطباء، خواتین، بچوں، ماہرینِ تعلیم اور دانشوروں کے خلاف ہونے والے ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں اور قتل و غارت گری کے واقعات کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔
ڈاکٹر قریشی کے مطابق اس سلسلے میں شامل نمایاں ترین عنوانات میں:
جرائم الإرهاب في العراق (عراق میں دہشت گردی کے جرائم)،
تلک الایام (وہ ایام)،
فهم جرائم التطرّف وتوثيقها (فہمِ جرائمِ انتہاپسندی اور اس کی دستاویز سازی)
نظام البعث في العراق: دراسات في أرشيفه وجرائمه (عراق میں نظامِ بعث: آرکائیو اور جرائم کا مطالعہ)
شامل ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ کتب عراق میں تشدد اور انتہاپسندی کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے محققین اور ماہرین کے لیے ایک ناگزیر علمی مآخذ ثابت ہوں گی۔


