علامہ سید صافی کی اسلامی و علمی ورثے کی تحقیق میں مصروف اداروں کو مشترکہ عمل و تعاون کی دعوت

روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے متولیِ شرعی عزت مآب علامہ سید احمد صافی (دام عزہ) نے اسلامی و علمی ورثے (تراث) کی تحقیق میں مصروف عمل اداروں کو اپنی کوششیں یکجا کرنے کی دعوت دی ہے، تاکہ علمی کام میں پختگی، دقت اور معیار کو یقینی بناتے ہوئے علمی حلقوں کی بہتر خدمت کی جا سکے۔

یہ بات انہوں نے 'امام حسین(ع) کمپلکس برائے تحقیقِ تراثِ اہل بیت (ع)' کے ڈائریکٹر سید عباس حسینی اور شیخ ہادی صغیر کربلائی کی قیادت میں محققین و دانشوروں کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں وفد نے سید احمد صافی کو کمپلکس کے تازہ ترین شاہکار 'موسوعہ شیخ نائینی (قدس سرہ)' کے بارے میں بریفنگ دی، جسے کمپلکس کے ماہر محققین نے مکمل کیا ہے۔

سید احمد صافی نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ روضات مقدسہ اور دیگر تحقیقی مراکز کے درمیان باہمی رابطہ اور ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا: ایسا نظم و ضبط ہونا چاہیے کہ کوششوں کا تکرار نہ ہو۔ اگر کوئی ادارہ کسی کتاب پر تحقیق کر رہا ہے یا کر چکا ہے، تو دوسرے ادارے کو اس کا علم ہونا چاہیے تاکہ وقت اور انسانی محنت ضائع نہ ہو۔ اس بچائے گئے وقت کو ان کتابوں کی تحقیق پر لگایا جا سکتا ہے جو اب تک پردہِ خفا میں ہیں۔

متولیِ شرعی نے تحقیق کے علمی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے دو اہم نکات پر زور دیا:

جامعیت: کسی بھی قلمی نسخے پر کام شروع کرنے سے پہلے اس کے تمام دستیاب نسخوں تک رسائی حاصل کی جائے، تاکہ تحقیق ادھوری نہ رہے۔

علمی رصانت: تمام نسخوں کا تقابلی جائزہ ہی اس کتاب کے علمی وقار اور مصنف کے اصل مدعا کو قارئین تک پہنچانے کی ضمانت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے تحقیقی مراکز اسی مربوط طریقہ کار پر کاربند ہیں، جس کی وجہ سے ان کی مطبوعات علمی میدان میں ایک سند کی حیثیت رکھتی ہیں۔

کمپلکس کے ڈائریکٹر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کربلا کے تحقیقی مراکز، بالخصوص روضہ مبارک امام حسین (علیہ السلام) اور روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے ادارے، اہل بیت (علیہم السلام) کے اس عظیم علمی ورثے کو زندہ کر رہے ہیں جو حوزہ علمیہ کے مجتہدین اور طلباء کے لیے نہایت قیمتی سرمایہ ہے۔ انہوں نے اس ملاقات کے دوران 'استادِ فقہاء' آیت اللہ العظمیٰ شیخ نائینی (رح) کی علمی خدمات پر مبنی موسوعہ کو سید احمد صافی کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا۔

اس موقع پر سید احمد صافی نے روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے مراکز کی جانب سے سید المجاہد (رضوان اللہ علیہ) کے علمی آثار کے احیاء اور ان پر ہونے والی تحقیقات کا بھی ذکر فرمایا۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: