دوسرے سالانہ بین الاقوامی ویمن قرآنی فورم "ملتقى غيث السماء" کی سرگرمیوں کے دوران "وِقاء" کے عنوان سے ایک خصوصی دستاویزی فلم دکھائی گئی، جس میں نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اور دعوتِ اسلامی کے ابتدائی ایام کے اہم واقعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اس فورم کا اہتمام روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے دفتر متولی شرعی برائے امورِ نسواں سے وابستہ "شعبہ فاطمہ بنت اسد (علیہا السلام) برائے قرآنی علوم" نے کیا ہے اور یومِ بعثتِ نبوی(ص) اور 'قومی یومِ قرآن' کی مناسبت سے منعقدہ اس فورم کے پروگرام "(بين الوحي ووفاء خديجة بداية الرحمة للعالمين)" کے عنوان کے تحت جاری ہیں۔
یہ دستاویزی فلم روضہ مبارک کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ "الکفیل پروڈکشن سنٹر " کی تخلیق ہے۔
فلم میں مبعثِ نبوی(ص) کے تاریخی پس منظر، دعوتِ اسلام کے آغاز، اور اس وقت کے معاشرے کے ردِعمل کے ساتھ ساتھ ابتدائی مراحل میں درپیش چیلنجز اور مشکلات کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔
فلم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ساتھ دینے والی عظیم شخصیات، بالخصوص حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) اور ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ (علیہا السلام) کے غیر متزلزل ایمان اور خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
دستاویزی فلم میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ بعثتِ نبوی(ص) جہانوں کے لیے رحمت، انسانیت اور ہدایت کا پیغام لے کر آئی، نہ کہ عذاب یا جبر۔
فلم کے ایک حصے میں قریش کی جانب سے حضرت خدیجہ (علیہا السلام) پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تکالیف کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح آپ(ع) کو نبی کریم(ص) کی حمایت اور اسلام پر ثابت قدمی کی وجہ سے قریش کے ہاتھوں اذیت، حتیٰ کہ پتھراؤ تک کا سامنا کرنا پڑا، مگر آپ(ع) کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔



