روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) سے وابستہ 'دارِ علوم نہج البلاغہ' کی جانب سے کربلا مقدسہ میں ہفتہ وار 'محفلِ نہج البلاغہ' کے ساتویں لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔
دارِ علوم نہج البلاغہ کے سربراہ ڈاکٹر لواء العطیہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس محفل کا مقصد نہج البلاغہ کا گہرا مطالعہ کرنا ہے تاکہ اس کے فکری و تربیتی پہلوؤں کو اجاگر کیا جا سکے۔ نہج البلاغہ ایک ایسا زندہ جاوید کلام ہے جو عصرِ حاضر کے فکری اور سماجی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اس لیکچر کے دوران معروف اسکالر شیخ محمد الراشدی نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی 47ویں وصیت کے مندرجات کی تفصیل بیان کی۔ انہوں نے اپنے خطاب کو درج ذیل چار بنیادی محوروں میں تقسیم کیا:
معاشرے کی بنیاد: انہوں نے واضح کیا کہ ایک مثالی معاشرے کی تعمیر کے لیے 'تقویٰ'، 'نظم و ضبط' اور 'باہمی تعلقات کی اصلاح' ناگزیر ہیں۔
سماجی ہمدردی: شیخ الراشدی نے یتیموں کی کفالت اور پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے متعلق امام (ع) کی ہدایات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے مسلمانوں کی اندرونی طاقت اور اتحاد کی ضمانت قرار دیا۔
عملی منشور: انہوں نے اس دستورِ عمل کا تذکرہ کیا جو امام (ع) نے بسترِ شہادت سے عطا فرمایا، جس میں نماز کی پابندی اور قرآن کریم پر حقیقی عمل شامل ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مسلمان سچائی اور امانتداری جیسی قرآنی اقدار کو اپنانے میں غفلت برتیں گے تو دوسرے لوگ ان پر سبقت لے جائیں گے۔
عدل و انصاف کا نظام: تقریب کے اختتام پر عدل و انصاف کے قرآنی تصور پر گفتگو کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ امام (ع) نے اجتماعی انتقام یا قبائلی دشمنی کے کلچر کو مسترد کرتے ہوئے 'قصاص' کو صرف قاتل تک محدود رکھنے کا حکم دیا، تاکہ زمین پر فساد کو روکا جا سکے اور فوری انصاف کے اصول کو مستحکم کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ 'محفلِ نہج البلاغہ' کے یہ پروگرام مختلف صوبوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر منعقد کیے جاتے ہیں، جن کا مقصد عقائد، اخلاقیات، نظم و نسق اور انسانی تربیت جیسے موضوعات پر نہج البلاغہ کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ اس سے قبل ہفتہ وار سلسلے کی چھٹی محفل مقامِ امام مہدی (عج) میں منعقد کی گئی تھی۔


