شعبہ فاطمہ بنت اسد (سلام اللہ علیہا) برائے قرآنی علوم کی جانب سے منعقدہ مرکزی رمضانی محفل اختتام پذیر

روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے دفتر متولی شرعی برائے خواتین سے وابستہ شعبہ فاطمہ بنت اسد (سلام اللہ علیہا) برائے قرآنی علوم کی جانب سے منعقدہ مرکزی رمضانی محفل کی سرگرمیاں اختتام پذیر ہو چکی ہیں۔

یکم رمضان المبارک سے شروع ہونے والی اس محفل میں کربلا معلیٰ کے مختلف علاقوں سے ہر عمر کی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام میں تلاوتِ کلام پاک اور اہل بیت (علیہم السلام) سے مروی دعاؤں کی قرأت کے ساتھ ساتھ 'تفسیرِ قرآن' کے خصوصی سیشنز بھی شامل تھے۔ ان نشستوں میں ہر پارے سے ایک منتخب آیت کی روشنی میں اس کے معانی، تربیتی، اخلاقی، عقائدی اور ایمانی پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس مبارک محفل کے دوران اہل بیت (علیہم السلام) سے منسوب ایامِ ولادت و شہادت کی مناسبت سے خصوصی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔ شعبہ کی سربراہ محترمہ فاطمہ الموسوی نے 'فقہی آگاہی سیشن' کے دوران خواتین کو روزمرہ کے شرعی مسائل سے آگاہ کیا اور ان کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے۔ علاوہ ازیں، تلاوت کی درستی اور جانچ کے لیے ایک 'اصلاحی سیشن' بھی محفل کا حصہ تھا، جس میں منتخب آیات کی درست تلاوت کرنے والی شرکاء کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انہیں اعزازات سے نوازا گیا۔

اس محفل میں تقریباً 270 خواتین نے شرکت کی۔ شعبہ کی جانب سے شرکاء کی سہولت کے لیے ٹرانسپورٹ کا مفت انتظام کیا گیا تھا۔ نیز، ماؤں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے بچوں کے لیے ایک مخصوص 'کارنر' بنایا گیا تھا جہاں بچوں کو ڈرائنگ اور رنگ بھرنے جیسی سرگرمیوں میں مصروف رکھا گیا تاکہ مائیں یکسوئی کے ساتھ محفل سے مستفید ہو سکیں۔

اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں روضہ مبارک کے دیگر شعبہ جات برائے خواتین بشمول 'مرکز صدیقہ طاہرہ (س)'، 'الکفیل ریڈیو' اور 'الکفیل دینی مدارس برائے خواتین' نے بھی بھرپور تعاون کیا۔

اس روحانی محفل کا اختتام دعائے توسل، امامِ زمانہ (عج) کے حضور عریضہ پیش کرنے اور امام زین العابدین (علیہ السلام) سے مروی 'دعائے ختمِ قرآن' پر ہوا۔ شریک خواتین نے روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی محافل خواتین میں قرآنی ثقافت کی ترویج اور مذہبی شعور کی بیداری میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: