روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام)کے شعبہ معارفِ اسلامی و انسانی نے مشہدِ مقدس (ایران) میں قائم اپنے ذیلی ادارے "مرکز التراث الإسلامي" کی تاسیس کے چار سال مکمل ہونے پر مرکز کی نمایاں ترین علمی و تحقیقی کامیابیوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔
مرکز کے ڈائریکٹر شیخ قیس العطار نے کہا کہ یہ مرکز چار سال قبل قائم کیا گیا تھا، ااور اس دوران ہماری تمام تر توجہ قدیم و نایاب قلمی نسخوں کی تحقیق اور ان کی اشاعت پر مرکوز رہی ہے۔ اب تک مرکز تقریباً 10 کتب شائع کر چکا ہے، جن میں 'موسوعة ابن السكون الحلي'، 'غاية السؤول' اور 'حدائق الحقائق' جیسی اہم کتب شامل ہیں، جنہیں منفرد قلمی نسخوں کی مدد سے مدون کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکز کے اہم ترین منصوبوں میں سے ایک'نہج البلاغہ' کا مستند ترین نسخہ ہے۔ اس کی تحقیق 10 ایسے نفیس ترین نسخوں کی مدد سے کی گئی ہے جو عبارت کی درستی اور نسخوں کے اختلافات کو واضح کرنے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر انسائیکلوپیڈیاز اور تالیفات پر کام جاری ہے، جن میں خوارزمی کی 'مقتل الإمام الحسين (عليه السلام)'، 30 سے زائد جلدوں پر مشتمل 'منہاج البراعة' اور 'معارج الأحكام' قابلِ ذکر ہیں۔
شیخ العطار نے اس بات پر زور دیا کہ مرکز اپنی تمام علمی کاوشوں کو اعلیٰ ترین تحقیقی معیارات اور دقتِ علمی کے ساتھ پیش کرنے کا پابند ہے، تاکہ محققین کی علمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ ورثہِ اہل بیت (علیہم السلام) کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔



