روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) سے وابستہ 'دارِ علوم نہج البلاغہ' کی جانب سے کربلا مقدسہ میں ہفتہ وار 'محفلِ نہج البلاغہ' کے دسویں لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔
دارِ علوم نہج البلاغہ کے سربراہ ڈاکٹر لواء العطیہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس محفل کا مقصد نہج البلاغہ کا گہرا مطالعہ کرنا ہے تاکہ اس کے فکری و تربیتی پہلوؤں اور انسانی زندگی و معاشرے میں اس کی عملی اقدار اور مفاہیم کو اجاگر کیا جا سکے ۔
اس لیکچر کے دوران معروف اسکالر شیخ محمد الراشدی نے امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کے مکتوبات میں سے سترہویں مکتوب (خط) پر بحث کی، جو ایک ایسا دستور اور اہم تاریخی دستاویز ہے جو ہر دور میں اصولوں کی استقامت کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیکچر میں ایمان کے اس لشکر، جس کی نمائندگی امام علیہ السلام کر رہے تھے، اور باطل کے لشکر کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا، نیزمنہجِ محمدی و علوی اور منہجِ اموی کے مابین بنیادی اختلافات کی وضاحت کی گئی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امام علی علیہ السلام کے جواب سے نفاق کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی اصولوں کی پابندی کا پتہ چلتا ہے ۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ یہ لیکچر ہفتہ وار محفل کے اندر 'سیرت و تاریخ' کے شعبے میں مطالعہ و تحقیق کا دروازہ کھولتا ہے۔


