روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے شعبۂ معارفِ اسلامی و انسانی نے جنوبی عراق کے صوبے ذی قار کے ممتاز علمی خانوادے "آلِ جمال الدین" کے گراں قدر فکری، علمی اور ادبی سرمائے کو محفوظ کرنے کے لیے عملی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں شعبے سے وابستہ "مرکز تراث الجنوب" کے محقق ڈاکٹر عباس العسکری نے مذکورہ بالا خانوادے کی موجودہ نامور شخصیت ڈاکٹر مہند جمال الدین سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے اس علمی گھرانے کے پاس موجود نادر قلمی نسخوں (مخطوطات) اور تاریخی دستاویزات کا مشاہدہ کیا، جو مرکز کے تحقیقی منصوبوں کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہیں۔
فریقین نے آلِ جمال الدین کے علماء کے علمی و ادبی آثار کو محفوظ کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ کاوش مرکز کے ان وسیع منصوبوں کا حصہ ہے جن کا مقصد جنوبی عراق کے شہروں کی علمی تاریخ اور فکری یادداشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔
ڈاکٹر عباس العسکری نے اس موقع پر مرکز کی مختلف مطبوعات، بشمول علمی و تحقیقی جریدے "تراث الجنوب" اور دیگر تاریخی کتب کا سیٹ پیش کیا، تاکہ علمی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ مرکز کی اب تک کی کاوشوں سے بھی آگاہ کیا جا سکے۔
ڈاکٹر مہند جمال الدین نے مرکز کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا خاندان اپنے پاس موجود تمام تاریخی ذرائع اور دستاویزات مرکز کے محققین کو فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان آثار کا سائنسی، علمی اور فنی بنیادوں پر تحفظ نہ صرف جنوبی عراق کے علمی ورثے کا احیاء کرے گا بلکہ اسے گم نامی اور مٹنے سے بھی بچائے گا۔
واضح رہے کہ یہ اقدام روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کی ان کوششوں کا تسلسل ہے جن کے ذریعے عراق کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے علم و معرفت کے خزانوں کو نئی زندگی دی جا رہی ہے۔


