روضہ مبارک حضرت عباس (ع) :عراقی عبایا ایک اخلاقی پیغام ہے جو عفت، پاکدامنی اور دینی اقدار سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

'عراقی عبایا' محض ایک لباس نہیں بلکہ ایک اخلاقی پیغام ہے جو عفت، پاکدامنی اور دینی اقدار سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار روضہ مبارک کے نمائندے شیخ محمد العاشوری نے 'عباءۃ النور' فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ فیسٹیول 'المسیب ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ' میں عراقی عبایا پہننے والی 120 سے زائد طالبات کے اعزاز میں منعقد کیا گیا تھا۔

اس فیسٹیول کا اہتمام روضہ مبارک کے شعبہ تعلقات عامہ سے وابستہ 'یونیورسٹی اور اسکول ریلیشنز ڈویژن' نے 'الکفیل نیشنل یوتھ پروجیکٹ' کے تحت 'فرات الاوسط ٹیکنیکل یونیورسٹی کے تعاون سے کیا تھا۔

شیخ العاشوری نے اپنے خطاب میں کہا درست اور قطعی نتائج کے حصول کے لیے مخصوص معیارات کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ہمارے دینی اور انسانی نظام کے بھی کچھ خاص معیارات ہیں جو نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہلِ بیت اطہار (علیہم السلام) نے مقرر فرمائے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی عبایا محض ایک روایتی لباس نہیں ہے، بلکہ اس کا گہرا تعلق حضرت سیدہ زینب کبریٰ (سلام اللہ علیہا) کی عظیم شخصیت سے ہے، جنہوں نے واقعہ کربلا کے بعد صبر، عفت اور استقامت کی لازوال مثال قائم کی۔ ایک مسلمان خاتون کے لیے حجاب اور پردے کا بلند ترین معیار حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) اور ثانیِ زہرا حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی سیرتِ مبارکہ میں پوشیدہ ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراقی عبایا ایک عظیم اخلاقی پیغام ہے، جو اپنے اندر عفت، پاکدامنی اور دینی اقدار سے وابستگی کے معانی سموئے ہوئے ہے؛ اور یہ لباس ہمیشہ مکتبِ اہلبیت (علیہم السلام) اور ان کی لازوال سیرت کی ایک زندہ و جاوید علامت رہے گا۔

واضح رہے کہ روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) ان سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کے مختلف طبقات، بالخصوص نوجوان نسل میں حقیقی اسلامی اقدار کے فروغ اور عبایا کی ثقافت کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
قارئین کے تبصرے
کوئی تبصرہ نہیں ہے
اپنی رائے دیں
نام:
ملک:
ای میل:
تبصرہ: