روضہ مبارک حضرت عباس (علیہ السلام) کے متولی شرعی عزت مآب علامہ سید احمد صافی (دام عزہ) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کا جناب مالک اشتر (رضوان اللہ علیہ) کے نام تحریر کردہ عہد نامہ، معاشرے کے ہر رہنما اور انتظامی سربراہ یا عہدیدار کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے روضہ مبارک کے ذیلی ادارے "دار علوم نہج البلاغہ" کے سربراہ ڈاکٹر لواء عبد الحسن العطیہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں ڈاکٹر العطیہ نے ادارے کی علمی کاوشوں، فکرِ امیر المؤمنین(ع) کی ترویج کے لیے جاری سرگرمیوں اور حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب "عهد الإمام علي (ع) لمالك الأشتر" کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
علامہ سید احمد صافی نے ادارے کی نئی اشاعت اور اس کی تیاری میں ملحوظ رکھی گئی فنی و علمی باریکیوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا: اس عظیم انسانی دستاویز (عہد نامہ مالک اشتر) کو سہل اور مختصر سائز میں فراہم کرنا معاشرے کے مختلف طبقات میں امام علی (علیہ السلام) کی عدل و انصاف پر مبنی اقدار اور علوی طرزِ حکمرانی کو عام کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ آج کے دور میں ہر اداری سربراہ اور لیڈر اس بصیرت افروز دستاویز کا محتاج ہے۔
معزز متولی شرعی نے درج ذیل اہم نکات پر زور دیتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ:
عراق کے مختلف صوبوں میں ہر منگل کو منعقد ہونے والے "نہج البلاغہ" کے تخصصی کورسز کی تعداد اور معیار میں اضافہ کیا جائے۔
ان تعلیمی سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع کیا جائے تاکہ معاشرے کا ہر طبقہ ان علوم سے مستفید ہو سکے۔
دار علوم نہج البلاغہ کی ثقافتی سرگرمیوں کو اکیڈمک اور علمی رنگ دیا جائے اور دارالحکومت بغداد کی یونیورسٹیوں اور دانشور طبقے کے ساتھ فعال روابط استوار کیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیر المؤمنین (علیہ السلام) کے فکری ورثے اور جدید اکیڈمک تحقیق کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے سے تحقیق و تجزیہ کے نئے افق روشن ہوں گے، جس سے ممتاز علمی اداروں میں خالص اسلامی فکر کو استحکام ملے گا۔
ملاقات کے بعد ڈاکٹر لواء العطیہ نے بتایا کہ انہوں نے متولی شرعی کی خدمت میں ادارے کی رواں سال کی پہلی سہ ماہی رپورٹ پیش کی، جس میں مختلف سماجی طبقات کے لیے تعلیمی پروگراموں اور تربیتی منصوبوں کی تفصیلات شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد نہج البلاغہ کو ایک ایسے فکری و تربیتی مرجع کے طور پر متعارف کروانا ہے جو سماجی شعور میں بنیادی تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ علامہ سید احمد صافی نے روضہ مبارک کے خدام کی فکری و انتظامی صلاحیتوں کو نہج البلاغہ کے اصولوں کی روشنی میں نکھارنے کے لیے خصوصی پروگرامز مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی۔

