روضہ مبارک کےسینٹر فار انڈیکسنگ اینڈ انفارمیشن سسٹم کے انچارج نے الکفیل نیٹورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے یہ کام روضہ مبارک حضرت عباس علیہ السلام کے متولی شرعی علامہ سید احمد صافی کی خصوصی ہدایات پر شروع کیا اور لائبریری میں موجود کتابوں کو جدید سائنسی انداز کو اپناتے ہوئے درجہ بندی اور ترتیب دینے کام شروع کیا کیونکہ یہ لائبریری ایک بک سٹور کی مانند تھی اور اور یہاں موجود کتابیں بغیر کسی درجہ بندی اور ترتیب کے رکھی ہوئی تھیں۔ ہم نے لائبریری کے فرسٹ فلور پر مذہبی اور دینی کتابوں کو درجہ بندی کرتے ہوئے ترتیب دیا ہے جبکہ سیکنڈ فلور پر علمی و تحقیقی کتابوں اور ادبی کتابوں کو ترتیب دیا گیا ہے۔ دونوں فلورز پر کتابوں کو ترتیب دینے کے بعد ہم نے ان کتابوں کو لائبریری کے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل ریکارڈ میں انٹر کیا ہے۔ اس ڈیجیٹل ریکارڈ میں کسی بھی کتاب کو ڈھونڈنے کے لیے مختلف طریقے ہیں اور کسی بھی کتاب کو عنوان، مصنف یا کتاب میں موجود مواد کے لحاظ سے باآسانی تلاش کیا جاسکتا ہے۔
یہ لائبریری 1968 میں شہید خطیب جواد شبیر نے قائم کی تھی. علامہ شیخ محمد جواد مغنیہ اور آیت اللہ شیخ بشیر نجفی اکثر اس لائبریری میں آ کر کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے اور ان عظیم شخصیات کی کوششوں کی بدولت آج بہت سے محققین، مفکرین، دانشور اور طالب علم اس لائبریری سے استفادہ کر رہے ہیں۔